18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی، سارے اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہوگئے: خواجہ آصف
اسلام آباد (قومی اسمبلی) — وفاقی دفاعی وزیر خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں 18ویں ترمیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کہا ہے کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سارے اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ موجودہ واقعات خصوصاً کراچی میں آتشزدگی اور دیگر حادثات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات مزید نچلی سطح یعنی مقامی حکومتوں (لوکل گورنمنٹ) کو منتقل کیے جائیں۔
اہم نکات
خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران چند کلیدی نکات پر زور دیا:
1. 18ویں ترمیم اور اختیارات
- 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی اختیارات صوبوں کی طرف منتقل ہوچکے ہیں۔
- وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی جس نے وفاقی نظام کو کمزور کیا ہے۔
2. کراچی کے واقعات سے سیکھ
- کراچی میں آتشزدگی اور ڈمپرز حادثات نہ صرف المناک ہیں بلکہ ہمارے نظام کی خامیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔
- ان واقعات نے ثابت کیا ہے کہ اختیارات لوکل سطح تک منتقل ہونا ضروری ہے تاکہ بروقت فیصلے ہوسکیں۔
3. لوکل گورنمنٹ اور مضبوط نظام
- خواجہ آصف نے کہا کہ مضبوط لوکل گورنمنٹ نظام ملک کی سیاسی اور انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہے۔
- انہوں نے تاریخی تناظر میں بتایا کہ ڈکٹیٹرز ایوب خان، ضیاء الحق، اور پرویز مشرف نے بااختیار لوکل گورنمنٹ متعارف کرائی تھی، جبکہ موجودہ حکومتیں لوکل انتخابات نہیں کرواتیں۔
لوکل گورنمنٹ کے فوائد اور نظام تعلیم کی یکسانیت
لوکل گورنمنٹ کے فوائد
• مقامی سطح پر بہتر خدمات کی فراہمی
• عوامی مسائل کا فوری حل
• شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ
یکساں نظام تعلیم
خواجہ آصف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک یکساں تعلیمی نصاب وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھا سکتا ہے، جس سے قومیت اور اتحاد مضبوط ہوگا۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو میں وزیر دفاع نے پی ٹی آئی سے مذاکرات پر بھی بات کی:
- حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن پی ٹی آئی مذاکرات میں غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔
- انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مختلف زبانیں بولتی ہے جس سے مذاکرات میں شفافیت متاثر ہوتی ہے۔
- ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی بدنیتی اور حکمت عملی صورتحال کو پیچیدہ کررہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر اور سیاسی تعلقات
خواجہ آصف نے سوال کیا کہ اکثریتی پارٹی نے اپوزیشن لیڈر کیوں نہیں بنایا؟
انہوں نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اگرچہ ان کی سیاسی رائے الگ ہوسکتی ہے، لیکن برادرانہ تعلقات کا احترام ہے۔
نتایج اور سفارشات
خواجہ آصف کا مؤقف واضح ہے:
- اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونا ضروری ہیں
- مضبوط لوکل گورنمنٹ سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے
- یکساں تعلیمی نظام قومی اتحاد کو فروغ دے سکتا ہے
- سیاسی عمل میں شفاف اور سنجیدہ مذاکرات مستقبل کے فیصلوں کے لیے اہم ہیں
سوالات و جوابات (FAQs)
سوال: 18ویں ترمیم نے اختیارات کیسے تبدیل کیے؟
جواب: 18ویں ترمیم کے تحت وفاقی اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے جس سے بعض امور میں وفاقی کردار کمزور ہوا۔
سوال: لوکل گورنمنٹ کیوں ضروری ہے؟
جواب: لوکل گورنمنٹ عوامی مسائل کے فوری حل، شفافیت اور موثر انتظام کے لیے ضروری ہے۔
Disclaimer: Please confirm all discussed information through public reports before taking any political or legal steps.