گل پلازہ سانحہ: شرجیل میمن نے وفاقی وزیر کے بیان کو ‘غیر سنجیدہ’ قرار دے دیا
کراچی کے تاریخی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں 17 جنوری 2026 کی رات کو لگنے والی بھیانک آگ نے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کو صدمے میں ڈال دیا۔ یہ واقعہ چند گھنٹوں میں کراچی کی سب سے بڑی فائر ٹریجڈیز میں شمار ہونے لگا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اسے مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً 48 گھنٹے لگ گئے۔ عمارت اب تک غیر مستحکم ہے اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔
اس سانحے کے بعد سیاسی بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے وفاقی وزیر مملکت حذیفہ رحمان کے ایک بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ قرار دیا۔ شرجیل میمن نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ آگ کے دوران پوری دنیا منظر دیکھ رہی تھی، اس لیے فون کال سے اطلاع دینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت کے پاس کوئی جدید ٹیکنالوجی یا آلات موجود تھے تو انہیں فوری طور پر پیش کرنا چاہیے تھا۔ “ہم نے کسی کو روکا نہیں تھا”، وزیر نے واضح کیا۔
شرجیل میمن کا مکمل بیان
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ 2024 میں عبوری حکومت کے دور میں تیار کی گئی تھی۔ اس لیے موجودہ چیف منسٹر کو ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ گل پلازہ فائر کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور جو بھی شخص یا ادارہ غفلت کا مرتکب پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بیان وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان ایمرجنسی حالات میں تعاون کے فقدان کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے سانحات میں مرکز اور صوبوں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کی اشد ضرورت ہے تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔
گل پلازہ فائر کی تازہ ترین صورتحال
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس سانحے میں اموات کی تعداد 63 تک پہنچ چکی ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ہی دکان یعنی ‘دبئی کروکری’ سے تقریباً 30 لاشیں برآمد ہوئیں جو شدید جھلس چکی تھیں۔ یہ بات خود سانحے کی شدت کو ظاہر کرتی ہے کہ کچھ لوگ دکان کے اندر پھنس کر نکل نہ سکے۔
- ریسکیو ٹیمیں: پاکستان آرمی، رینجرز، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور دیگر اداروں کی مشترکہ ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں۔
- سرچ اینڈ ریکوری: عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
- شناخت کا عمل: متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں جبکہ ڈی این اے سیمپلنگ سینٹرز بھی فعال ہیں۔
- عمارت کی حالت: انجینئرز نے عمارت کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے اور اسے گرائے جانے کا امکان ہے۔
یہ سانحہ کراچی میں حالیہ برسوں کا سب سے بڑا فائر واقعہ ہے جس نے شہری انتظامیہ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فائر سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
فائر سیفٹی کے نظام میں خامیوں کا انکشاف
گل پلازہ جیسے بڑے کمرشل عمارتوں میں اکثر لاک شدہ ایمرجنسی ایگزٹس، ناکافی فائر فائٹنگ آلات، غیر معیاری وائرنگ اور فائر الارم سسٹم کی عدم موجودگی جیسی سنگین خامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عمارت میں مناسب فائر سیفٹی پروٹوکول ہوتے تو اموات کی تعداد شاید کم ہوتی۔
سندھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تمام کمرشل عمارتوں کا دوبارہ فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے گا اور ناکام ہونے والی عمارتوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
عوام کے لیے فوری احتیاطی تدابیر
اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے ہر شہری کو درج ذیل اقدامات اپنانے چاہییں:
- کسی بھی عوامی جگہ، مال یا آفس میں داخل ہوتے ہی ایمرجنسی ایگزٹس اور سیڑھیوں کی نشاندہی کر لیں۔
- فائر الارم، ایمرجنسی لائٹس، فائر ایکسٹنگوئشر اور اسپرنکلر سسٹم کی موجودگی چیک کریں۔
- دھوئیں، جلنے کی بو یا گرمی محسوس ہونے پر فوراً عمارت خالی کرنے کی کوشش کریں۔ لفٹ بالکل استعمال نہ کریں۔
- خاندان کے افراد کے ساتھ پہلے سے میٹنگ پوائنٹ اور ایمرجنسی پلان طے کر لیں۔
- بچوں کو فائر سیفٹی کے بنیادی اصول سکھائیں جیسے “Stop, Drop & Roll”۔
- اپنے گھر اور دفتر میں فائر ایکسٹنگوئشر رکھیں اور اس کا استعمال جان لیں۔
انکوائری کا عمل اور مستقبل کے اقدامات
سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ انکوائری عدالتی نوعیت کی ہوگی تاکہ مکمل شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ اس میں بلڈنگ کی منظوری، فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ، الیکٹریکل سسٹم اور مینجمنٹ کی ذمہ داری کا جائزہ لیا جائے گا۔
ماہرین تجویز کر رہے ہیں کہ:
- تمام صوبوں میں فائر سیفٹی قوانین کو سخت کیا جائے۔
- جدید فائر فائٹنگ آلات اور ٹرینڈ عملہ بڑھایا جائے۔
- عوامی شعور بیداری مہم چلائی جائے۔
- وفاق اور صوبوں کے درمیان ایمرجنسی رسپانس پروٹوکول طے کیا جائے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال 1: گل پلازہ فائر میں کتنی اموات ہوئی ہیں؟
اب تک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اموات کی تعداد 63 ہے۔
سوال 2: آگ کس دکان سے شروع ہوئی تھی؟
حکام کے مطابق آگ کی ابتدا ‘دبئی کروکری’ نامی دکان سے ہوئی جہاں سے سب سے زیادہ لاشیں برآمد ہوئیں۔
سوال 3: کیا انکوائری ہو رہی ہے؟
جی ہاں، سندھ حکومت نے مکمل انکوائری کا اعلان کر دیا ہے اور غفلت ثابت ہونے پر کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
سوال 4: کیا وفاق نے مدد پیش کی تھی؟
شرجیل میمن کے مطابق وفاق کی جانب سے کوئی عملی یا ٹیکنالوجیکل مدد پیش نہیں کی گئی۔
سوال 5: عوام کو کیا احتیاط کرنی چاہیے؟
ہمیشہ ایمرجنسی ایگزٹس چیک کریں، لفٹ استعمال نہ کریں، اور دھواں دیکھتے ہی فوراً باہر نکلیں۔
یہ سانحہ ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی تجویز، سوال یا ذاتی تجربہ ہے تو کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
اس خبر کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے شیئر کریں۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں — بائیں جانب تیرتے بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کر لیں تاکہ اہم خبروں سے آپ کو فوری آگاہی ہو۔
یہ آرٹیکل مکمل طور پر عوامی طور پر دستیاب نیوز رپورٹس، سرکاری بیانات اور میڈیا کوریج پر مبنی ہے۔