پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر کراچی کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان کی شدید تنقید
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں مل کر شہر کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ خاص طور پر گل پلازہ میں ہونے والے المناک آتشزدگی کے سانحے کے بعد عوام میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ حافظ نعیم نے نشاندہی کی کہ ہر بڑے سانحے کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان محض نورا کشتی شروع ہو جاتی ہے، جبکہ شہریوں کے مسائل حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔
گل پلازہ سانحہ: فائر سیفٹی کا مکمل فقدان
گل پلازہ میں لگی آگ ایک خوفناک سانحہ بن گیا۔ آگ بجھانے کے لیے مناسب انتظامات بالکل موجود نہیں تھے۔ فائر فائٹرز کے پاس نہ تو آگ سے بچاؤ کا مناسب لباس تھا، نہ ماسک اور نہ ہی کوئی ایڈوانسڈ کٹ جس سے وہ محفوظ طریقے سے کام کر سکیں۔ نتیجتاً ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں اور سانحہ کی شدت میں اضافہ ہوا۔
یہ واقعہ کراچی میں فائر سیفٹی کے نظام کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہر میں آگ لگنے کے واقعات بار بار ہو رہے ہیں، مگر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
کراچی کے بنیادی مسائل: بارش ہو یا آگ، نظام ناکام
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں جب بارش ہوتی ہے تو پانی نکالنے کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ آگ لگ جائے تو اسے بجھانے کی صلاحیت نہیں۔ گرین لائن پروجیکٹ 2016 میں شروع ہوا تھا مگر آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ریڈ لائن کا منصوبہ بھی مقررہ وقت پر پورا نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے بنی سڑکوں کو توڑ دیا گیا۔
یہ تمام منصوبے برسوں سے تاخیر کا شکار ہیں۔ نااہل اور کرپٹ افسران اور سیاستدانوں کی وجہ سے شہر کی ترقی رک گئی ہے۔ کک بیکس اور کرپشن کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
حل صرف کراچی سٹی گورنمنٹ میں ہے
حافظ نعیم نے زور دیا کہ کراچی کے مسائل کا حل نہ تو مکمل صوبائی کنٹرول میں ہے اور نہ ہی وفاقی کنٹرول میں۔ اصل حل ایک مضبوط اور خودمختار کراچی سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔ جسے عوام خود منتخب کریں، نہ کہ قبضہ میئر مسلط کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبہ میں سب مل کر حکومت کر رہے ہیں مگر شہر کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ پورشن مافیا اور قبضہ گروپس کو فروغ مل رہا ہے۔ یہ صورتحال نہایت افسوسناک ہے۔
کراچی کے شہریوں کے لیے اہم نکات
- فائر سیفٹی کے سخت قوانین فوری نافذ کیے جائیں
- تمام پبلک اور کمرشل عمارتوں میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم لازمی قرار دیے جائیں
- گرین لائن اور ریڈ لائن جیسے منصوبوں کی نگرانی کے لیے آزاد اور شفاف کمیٹی بنائی جائے
- کراچی سٹی گورنمنٹ کو مکمل اختیارات دیے جائیں تاکہ شہری مسائل حل ہو سکیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
گل پلازہ جیسے سانحات کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟
فائر سیفٹی کے سخت نفاذ، باقاعدہ معائنہ اور جدید آلات کی فراہمی سے۔
گرین لائن کب مکمل ہو گی؟
اس میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے، حتمی تاریخ کا یقین نہیں۔
کراچی کے مسائل کا حل کیا ہے؟
مضبوط مقامی حکومت، شفافیت اور کرپشن پر قابو پانا۔
آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا PPP اور MQM واقعی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں اور اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ابھی ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں۔ بائیں جانب موجود واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن پاپ اپ قبول کریں اور کراچی کی ہر اہم خبر سب سے پہلے حاصل کریں۔ ابھی جوائن کریں – آپ کی آواز اور آگہی ہمارے لیے اہم ہے!
(نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس اور بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں۔ کسی بھی قدم سے پہلے تصدیق کر لیں۔)