رانا ثنااللہ

18 ویں ترمیم میں بہتری کیلئے آئین میں راستہ کھلا ہے، اس کو لیکر ہمارے مؤقف پر بات ہونی چاہیے: رانا ثنااللہ

https://otieu.com/4/10402694


وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک اہم بیان میں پاکستان کے آئینی ڈھانچے اور حالیہ سیاسی امور پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اٹھارویں ترمیم، گل پلازہ آتشزدگی، ضلعی حکومتوں کی بااختیاری، پی ٹی آئی اور دیگر اہم موضوعات پر کلیدی نکات پیش کیے۔ یہ بیان حالیہ سیاسی بحثوں میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔

اٹھارویں ترمیم

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ یہ ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے جس نے پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کیا اور صوبوں کو زیادہ اختیارات و وسائل دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم میں دوبارہ اتفاق رائے سے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ آئین میں بہتری کا راستہ مکمل طور پر کھلا ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ اس پر سنجیدہ بات چیت ہونی چاہیے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم سمیت دیگر مسائل کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

گل پلازہ آتشزدگی

رانا ثنا اللہ نے گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس سانحے کی تفصیلی تحقیقات ہونی چاہییں۔ خاص طور پر درج ذیل پہلوؤں کا احتساب کیا جائے:

  • عمارت کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی؟
  • یہ عمارت کب اور کس طرح تعمیر ہوئی؟
  • غیر قانونی توسیعات اور فائر سیفٹی کے اقدامات کی عدم موجودگی کی وجہ کیا تھی؟
یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کی سیاسی پیش رفت کا انحصار: پاکستان کی پانچ بڑی شخصیات میں اعتماد سازی ضروری

یہ واقعہ شہری علاقوں میں عمارتوں کی سیفٹی اور نگرانی کے سنگین مسائل کو سامنے لاتا ہے۔

پی ٹی آئی اور عمران خان کے حوالے سے بیان

مشیر نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملاقاتوں کا طریقہ کار طے کر دیا ہے جس کی پابندی ضروری ہے۔

ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا

رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔ جب تک ضلعی سطح پر بااختیار ادارے قائم نہیں ہوتے، عوام کے روزمرہ مسائل کا حل ممکن نہیں ہو سکتا۔ مقامی حکومتوں کی بااختیاری جمہوریت کی بنیاد اور عوامی مسائل کی فوری ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ وزیراعلیٰ کےپی کے زیرصدارت اجلاس میں ہوا، حکومت بظاہر مخالفت کررہی ہے: ڈاکٹر عباد اللہ

خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل

خواجہ آصف کے حالیہ بیان کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ اسمبلی میں ذاتی رائے تھی۔ ہر رکن پارلیمنٹ کو اظہار رائے کا مکمل حق حاصل ہے۔ خواجہ آصف نے یہ بات پارٹی پالیسی کے طور پر نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں کہی تھی۔ ذاتی رائے کو ذاتی ہی رہنے دینا چاہیے۔

یہ بیانات پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئینی اصلاحات کی ضرورت اور عوامی مسائل کے حل پر اہم روشنی ڈالتے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم جیسی بڑی تبدیلیاں اتفاق رائے سے مزید بہتر ہو سکتی ہیں جو ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

FAQs

سوال 1: اٹھارویں ترمیم پر کیا کہا؟

جواب: اتفاق رائے سے ہوئی، دوبارہ اتفاق سے بہتر ہو سکتی ہے۔ آئین میں راستہ کھلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حکومت ساڑھے 3 سال سے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کیلئے متحرک، رپورٹ پیش

سوال 2: گل پلازہ آگ پر موقف؟

جواب: مکمل تحقیقات ہوں: منظوری کس نے دی، کب بنی، غیر قانونی توسیعات کا احتساب۔

سوال 3: عمران خان پر بیان؟

جواب: ملاقاتوں کو ریاست کے خلاف استعمال کرتے رہے۔ ہائی کورٹ کا طریقہ کار تسلیم کریں۔

سوال 4: ضلعی حکومتیں؟

جواب: بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔ مسائل تب ہی حل ہوں گے۔

سوال 5: خواجہ آصف کے بیان پر؟

جواب: ذاتی رائے تھی۔ اظہار رائے کا حق ہے، ذاتی رہے۔

متعلقہ موضوعات پر مزید جاننے کے لیے کمنٹس میں اپنی رائے دیں، آرٹیکل شیئر کریں یا ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں۔ WhatsApp چینل جوائن کریں اور تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس براہ راست حاصل کریں – بائیں جانب فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں!

ڈس کلیمر: The provided information is based on public reports. Please verify all discussed details from official sources before drawing conclusions or taking any actions.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *