ڈاکٹر عباد

تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ وزیراعلیٰ کےپی کے زیرصدارت اجلاس میں ہوا، حکومت بظاہر مخالفت کررہی ہے: ڈاکٹر عباد اللہ

https://otieu.com/4/10402694

خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ نے پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے صوبائی حکومت پر کرپشن، نااہلی اور تیراہ آپریشن کے معاملے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ میں جاری فوجی آپریشن کا فیصلہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا، لیکن اب صوبائی حکومت بظاہر اس کی مخالفت کا ڈھونگ رچا رہی ہے۔

پریس کانفرنس کا پس منظر

پشاور پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر عباد اللہ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے کرپشن اور نااہلی کا دور دورہ ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نہ تو امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنا سکی ہے اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے۔

تیراہ آپریشن پر ڈاکٹر عباد کے انکشافات

ڈاکٹر عباد اللہ نے سب سے اہم انکشاف یہ کیا کہ تیراہ میں جاری آپریشن کا فیصلہ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی میں متفقہ طور پر کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جب آپریشن کے منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں تو صوبائی حکومت بظاہر اس کی مخالفت کر کے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا:

  • یہ آپریشن صوبائی حکومت کی ایما اور منظوری سے شروع ہوا
  • اگر حکومت کا بس نہیں چل رہا تو کرسی چھوڑ دیں
  • ڈی سی (جو صوبائی انتظامیہ کے ماتحت ہے) نے جرگہ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا
  • آئی جی پولیس کی بریفنگ کے مطابق پولیس میں اس طرح کے آپریشن کی صلاحیت موجود نہیں
یہ بھی پڑھیں:  مریکی حملے، مادورو کی گرفتاری: وینزویلا میں اقتدار کے خاتمے کی تفصیل

صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید

اپوزیشن لیڈر نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو صفر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن کی بھرمار ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام کے مسائل پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت نے اب تک عوام کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے ہیں؟

ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ باقی صوبے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں جبکہ خیبرپختونخوا تیزی سے پیچھے جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ صوبے پر رحم کریں اور اسے مزید تباہی کی طرف نہ لے جائیں۔

کرپشن اور نااہلی کے الزامات

انہوں نے کرپشن کو صوبے کی سب سے بڑی بیماری قرار دیا۔ ان کے مطابق ترقیاتی فنڈز کی غلط تقسیم، منصوبوں میں تاخیر اور بدعنوانی کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے دور میں عوامی سہولیات کی حالت بدتر ہوئی ہے۔

18ویں ترمیم اور فنڈز کی تقسیم پر وضاحت

ڈاکٹر عباد اللہ نے 18ویں ترمیم سے متعلق وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیان کو ذاتی نوعیت کا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نچلی سطح پر فنڈز منتقل نہیں کر رہی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت نے تمام یونیورسٹیوں میں برابر تعداد میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے تھے، لیکن اب فنڈز کی تقسیم سے متعلق غلط بیانیاں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  26 اور 27 ویں ترامیم پر تنقید کرنے والے غلطی کی نشاندہی نہیں کرتے: اعظم نذیر تارڑ کا بیان

تیراہ آپریشن کے اثرات

تیراہ میں جاری آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ سرد موسم میں یہ لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ علاقے میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ آپریشن کے فیصلے میں صوبائی حکومت مکمل طور پر شریک تھی، اب جب حالات خراب ہوئے تو ذمہ داری سے انکار کیا جا رہا ہے۔

صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل

اپوزیشن لیڈر نے صوبے کے کچھ اہم مسائل کی نشاندہی کی:

  • دہشت گردی اور عدم تحفظ کا تسلسل
  • تعلیم اور صحت کے شعبوں میں شدید کمی
  • روزگار کے مواقع کی کمی
  • ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور کرپشن
  • پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری

حکومت سے مطالبات

ڈاکٹر عباد اللہ نے صوبائی حکومت سے درج ذیل مطالبات کیے:

  • تیراہ آپریشن کی مکمل ذمہ داری قبول کریں
  • عوامی مسائل پر فوری توجہ دیں
  • کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
  • پولیس کو جدید بنایا جائے اور اسے آپریشن کی صلاحیت دی جائے
  • صوبے کو ترقی کی راہ پر لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں

سیاسی منظرنامہ اور مستقبل

خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اپوزیشن مسلسل حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے جبکہ حکومت اپنی دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ڈاکٹر عباد اللہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن اب نہ صرف کارکردگی بلکہ تیراہ آپریشن جیسے حساس معاملات کو بھی ایشو بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  18 ویں ترمیم میں بہتری کیلئے آئین میں راستہ کھلا ہے، اس کو لیکر ہمارے مؤقف پر بات ہونی چاہیے: رانا ثنااللہ

نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس اور میڈیا بیانات پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ حکام سے تصدیق کر لیں۔

تیراہ آپریشن اور صوبائی سیاست FAQs

1. تیراہ آپریشن کا فیصلہ کس نے کیا؟

ڈاکٹر عباد اللہ کے مطابق فیصلہ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی میں ہوا تھا۔

2. صوبائی حکومت اب کیا کہہ رہی ہے؟

حکومت بظاہر آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے، لیکن اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ اس کی ایما پر ہو رہا ہے۔

3. ڈاکٹر عباد اللہ نے حکومت کی کارکردگی کو کیا قرار دیا؟

انہوں نے کارکردگی کو صفر قرار دیا اور کرپشن، نااہلی اور عوامی مسائل کی عدم توجہ پر تنقید کی۔

4. پولیس کی صلاحیت کے بارے میں کیا کہا گیا؟

آئی جی کی بریفنگ کے مطابق پولیس میں اس طرح کے آپریشن کی صلاحیت موجود نہیں۔

5. اپوزیشن کا سب سے بڑا مطالبہ کیا ہے؟

حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ تیراہ آپریشن کی ذمہ داری قبول کرے اور صوبے کو مزید تباہی سے بچائے۔

اگر آپ خیبرپختونخوا کی تازہ سیاسی صورتحال، تیراہ آپریشن یا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر مزید تفصیل چاہتے ہیں تو کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں تاکہ خیبرپختونخوا کی تازہ ترین سیاسی خبروں، اپوزیشن بیانات، آپریشن کی اپ ڈیٹس اور اہم واقعات براہ راست آپ کے فون پر پہنچیں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں – صوبے کی ہر خبر آپ تک فوری طور پر!

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *