26 اور 27 ویں ترامیم پر تنقید کرنے والے غلطی کی نشاندہی نہیں کرتے: اعظم نذیر تارڑ کا بیان
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، جو وکلا برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے راولپنڈی میں وکلا کے نئے چیمبرز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم پر تنقید کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ترامیم پر تنقید تو کی جاتی ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان میں غلط کیا ہے۔ اس بیان سے قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ پنجاب میں پراپرٹی کے قانون پر اعتراضات کا معاملہ جلد حل ہو جائے گا اور جو لوگ اسے سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں، انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے اکاؤنٹ میں 3 کروڑ 20 لاکھ روپے منتقل کیے جائیں گے، جو 64 متاثرہ وکلا کو دیے جائیں گے جن کے چیمبرز کو نقصان پہنچا۔ وکیل رہنما احسن بھون نے اعظم نذیر تارڑ کو واحد وزیر قانون قرار دیا جو وکلا کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔
26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم
پاکستان کے آئین میں 26 ویں ترمیم 20 اکتوبر 2024 کو منظور کی گئی تھی، جس کا مقصد عدلیہ کی اصلاحات تھا۔ اس میں چیف جسٹس کی مدت ملازمت، ججوں کی تقرری اور آئینی مقدمات کے لیے بینچز کی تشکیل شامل تھیں۔ گزشتہ سال نومبر 2025 میں 27 ویں ترمیم منظور ہوئی، جو وفاقی آئینی عدالت کے قیام، فوجی افسران کی تقرریوں اور سنگین غداری کی سزاؤں سے متعلق تھی۔
یہ ترامیم تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی گئیں، جیسا کہ اعظم نذیر تارڑ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔
- 26 ویں ترمیم کی کلیدی شقیں: ججوں کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی، چیف جسٹس کی مدت تین سال، اور آئینی مقدمات کے لیے سینیئر ججوں کا پینل۔
- 27 ویں ترمیم کی کلیدی شقیں: وفاقی آئینی عدالت کا قیام، فوجی افسران کی تاحیات عہدے، اور آرٹیکل 6 میں تبدیلیاں جو سنگین غداری کی کلاز کو تبدیل کرتی ہیں۔
یہ ترامیم پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہوئیں، جن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں شامل تھیں۔
تنقید کی وجوہات اور اعظم نذیر تارڑ کا جواب
اپوزیشن جماعتوں جیسے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی نے ان ترامیم پر شدید تنقید کی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما حامد خان نے کہا کہ 26 ویں ترمیم نے آئین کو ‘قتل’ کیا اور 27 ویں نے ‘دفن’ کر دیا۔ جماعت اسلامی نے ترامیم کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ تنقید کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ترامیم پارلیمنٹ کی بجائے مخصوص اداروں کو طاقت دیتی ہیں۔
تاہم، اعظم نذیر تارڑ نے اس تنقید کو سطحی قرار دیا اور کہا کہ تنقید کرنے والے غلطی کی نشاندہی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ترامیم نے عدلیہ کو مضبوط کیا اور آئینی توازن قائم کیا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں عدالتی کیسز کی تعداد میں 15 فیصد کمی آئی، جو ترامیم کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
ترامیم کے فوائد: ڈیٹا بیسڈ تجزیہ
یہ ترامیم پاکستان کی عدالتی نظام کو موثر بنانے کے لیے ہیں۔ مثال کے طور پر:
- عدالتی تاخیر میں کمی: 26 ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ میں پینڈنگ کیسز میں 20 فیصد کمی دیکھی گئی۔
- وفاقی توازن: 27 ویں ترمیم نے آئینی عدالت قائم کر کے صوبائی اور وفاقی تنازعات کو حل کرنے کا طریقہ کار بہتر کیا۔
- سیاسی استحکام: ترامیم نے فوجی تقرریوں کو شفاف بنایا، جو ماضی میں تنازعات کا باعث بنتی تھیں۔
یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ کی رپورٹس سے لیے گئے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ ترامیم نے نظام کو بہتر بنایا ہے۔
FAQs: عام سوالات اور جوابات
سوال: 26 ویں اور 27 ویں ترامیم میں کیا فرق ہے؟
جواب: 26 ویں ترمیم عدلیہ کی اصلاحات پر مرکوز تھی، جبکہ 27 ویں نے آئینی عدالت اور فوجی عہدوں کو شامل کیا۔
سوال: یہ ترامیم کیوں متنازع ہیں؟
جواب: اپوزیشن کا خیال ہے کہ یہ عدلیہ کی آزادی کو کم کرتی ہیں، لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کو طاقت دیتی ہیں۔
سوال: اعظم نذیر تارڑ کا بیان کیا مطلب رکھتا ہے؟
جواب: وہ تنقید کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں اور چیلنج کرتے ہیں کہ غلطی بتائی جائے۔
آپ کی رائے
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ 26 اور 27 ویں ترامیم پاکستان کے آئین کو مضبوط کرتی ہیں؟
- ہاں، یہ ضروری اصلاحات ہیں۔
- نہیں، یہ عدلیہ پر حملہ ہیں۔
- معلوم نہیں، مزید تفصیلات چاہیے۔
اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں اور دیکھیں کہ دوسرے قارئین کیا سوچتے ہیں!
یہ پول آپ کی رائے جاننے کے لیے ہے اور سائٹ پر وقت گزارنے کو بڑھائے گا۔
Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.