PAK ARMY PERSON

پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 17 فیصد کمی، مگر 2025 دہائی کا سب سے پرتشدد سال – CRSS رپورٹ

https://otieu.com/4/10402694

مرکز برائے تحقیق و سلامتی مطالعہ (CRSS) کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرحدی دہشت گردی کے خلاف سخت حکمتِ عملی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش نے نمایاں اثرات دکھائے ہیں۔ محکمہ دفاعی و سکیورٹی تجزیہ جات کے مطابق پاکستان نے اکتوبر 2025 میں افغانستان کے ساتھ بارڈر مکمل طور پر بند کیا، جس کے بعد صرف دسمبر میں دہشت گرد حملوں میں 17 فیصد اور نومبر میں 9 فیصد کمی سامنے آئی۔

یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ سرحدی فیصلوں نے ملک کے اندرونی سکیورٹی ماحول پر مثبت اثر ڈالا، جبکہ شہری و سکیورٹی اہلکاروں میں دہشت گردی سے جڑی ہلاکتوں میں بھی دسمبر میں 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

پس منظر: سرحد کی بندش اور زمینی صورتحال

12 اکتوبر 2025 کو پاکستان نے ٹورخم اور چمن بارڈر بند کیا، جب افغان طالبان اور منسلک جنگجو گروہوں نے پاکستانی فوجی پوسٹوں پر حملے کیے۔
ان جھڑپوں میں:

  • 200 سے زائد طالبان و عسکریت پسند ہلاک
  • 23 پاکستانی اہلکار شہید
  • پاکستان نے قندھار اور کابل میں دہشت گرد ٹھکانوں پر “اہم اور درست اہدافی کارروائیاں” کیں
  • 15 اکتوبر کو افغان درخواست پر 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی
  • 19 اکتوبر کو قطر میں مذاکرات کے ذریعے باضابطہ سیز فائر
یہ بھی پڑھیں:  سڈنی ایشز ٹیسٹ میں بونڈی شوٹنگ کے ریسپانڈرز کو خراجِ تحسین

2025 – گزشتہ دس برسوں کا سب سے خونریز سال

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مسلسل پانچ سال (2021 تا 2025) دہشت گردی میں اضافے کا سامنا کیا۔
2025 کے اعدادوشمار خوفناک صورتحال دکھاتے ہیں:

  • کل اموات: 3,417
  • زخمی افراد: 2,134
  • کل واقعات: 1,272
  • 2024 میں اموات: 2,555
  • سالانہ اضافہ: 34 فیصد

2021 کے بعد مسلسل اضافہ:
38% (2021) – 15% (2022) – 56% (2023) – 67% (2024) – 34% (2025)

سب سے زیادہ متاثرہ علاقے: خیبر پختونخوا اور بلوچستان

اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے دو صوبے سب سے زیادہ متاثر رہے:

خیبر پختونخوا

  • اموات: 2,331
  • 2024 کے مقابلے میں اضافہ: 711 اموات (44%)
  • ملک بھر کی مجموعی اموات کا 68%

بلوچستان

  • اموات: 956
  • اضافہ: 22%
  • مجموعی واقعات کا 30%

دیگر صوبے

صوبہواقعاتاموات
پنجاب2540
سندھ5156
آزاد جموں و کشمیر15
گلگت بلتستان4

مجرموں کے لیے مہلک ترین سال

2025 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 392 کارروائیاں کیں جن میں:

  • 2,060 جرائم پیشہ افراد ہلاک
  • یہ تعداد شہری و سکیورٹی ہلاکتوں کے مجموعی نقصان سے 60% زیادہ ہے
یہ بھی پڑھیں:  Galaxy S26 کی قیمت Galaxy S25 کے برابر رہنے کا امکان، رپورٹ میں انکشاف

زخمیوں میں 93% عام شہری اور سکیورٹی اہلکار تھے جبکہ مجرموں میں صرف 7% زخمی رپورٹ ہوئے۔

تشدد میں کمی کہاں اور کیسے ہوئی؟

2025 میں شہری اور سکیورٹی اداروں کی ہلاکتوں میں:

  • شہری اموات میں 24% کمی
  • سکیورٹی اہلکاروں کی اموات میں 5% کمی

وفاقی دارالحکومت میں اموات: 26 سے کم ہو کر 15
پنجاب میں کمی: 66 سے 40
سندھ میں معمولی اضافہ: 55 سے 56

پاکستان نے 17% کمی کیسے یقینی بنائی؟ (تجزیاتی نکات)

  • سرحدی نقل و حرکت کی نگرانی میں اضافہ
  • حساس اضلاع میں بیک وقت انٹیلی جنس و سکیورٹی آپریشنز
  • افغان حکومت پر بین الاقوامی دباؤ اور سفارتی مذاکرات
  • قطر اور ترکیہ کی ثالثی کے ذریعے سیز فائر

ملک میں امن کے لیے مستقبل کی حکمتِ عملی

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو مندرجہ ذیل اقدامات مسلسل جاری رکھنا ہوں گے:

  • حساس علاقوں میں مقامی سکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانا
  • بارڈر مینجمنٹ کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال
  • افغانستان سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عالمی حمایت
  • متاثرہ صوبوں میں سماجی و معاشی اصلاحات
یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کیس میں سخت موقف: پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کیا بارڈر بند کرنے سے دہشت گرد حملے مکمل طور پر رک سکتے ہیں؟

نہیں، مگر اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس فیصلے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

کیا شہری اموات میں بھی کمی آئی؟

جی ہاں، رپورٹ کے مطابق شہری اموات میں 24% کمی ہوئی ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کون سے ہیں؟

خیبر پختونخوا اور بلوچستان مجموعی واقعات اور ہلاکتوں میں بالترتیب 68% اور 28% کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔

حتمی تجزیہ

افغان سرحد کی بندش اور پاکستان کی جارحانہ حکمتِ عملی نے دہشت گرد حملوں میں کمی ثابت کی ہے، مگر مجموعی تشدد میں 34% اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کو اب بھی داخلی اور سرحد پار خطرات کا سامنا ہے۔
ملک میں پائیدار امن کے لیے بارڈر سکیورٹی، سفارتی مذاکرات، اور مقامی سطح پر مضبوط حکمتِ عملی مستقبل کا واحد راستہ ہیں۔

Disclaimer
This information is based on publicly available reports. Readers must verify any details before taking any action.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *