وزیر اعلیٰ سندھ

سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ کا 2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

https://otieu.com/4/10402694

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے اہم اعلانات کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ متاثرین کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور جلد از جلد ان کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سانحے میں متعدد جانیں ضائع ہوئیں اور کاروباری نقصانات ہوئے، جس پر وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا۔

سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے ریلیف پیکج

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے متاثرین کی مالی اور کاروباری بحالی پر خصوصی توجہ دی۔ اہم اعلانات درج ذیل ہیں:

  • جاں بحق افراد کے لیے معاوضہ — ہر شہید کے ورثاء کو ایک کروڑ روپے کی امداد دی جائے گی۔
  • دکانداروں کی فوری امداد — گل پلازہ کے ہر دکاندار کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ اگلے 2 ماہ تک گھر کا کچن چل سکے۔
  • دکانیں کی بحالی — 2 ماہ کے اندر متاثرہ دکانداروں کو نئی دکانیں تیار کرکے دی جائیں گی تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔
  • قرضہ کی سہولت — محکمہ سندھ انویسٹمنٹ کے ذریعے دکانداروں کو ایک کروڑ روپے کا قرضہ فراہم کیا جائے گا، جس کا سود مکمل طور پر حکومت سندھ ادا کرے گی۔
  • نقصانات کی تلافی — دکانوں میں موجود سامان اور دیگر نقصانات کی تلافی حکومت سندھ کرے گی، جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی مدد سے سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
  • عمارت کی تعمیر نو — گل پلازہ کی جگہ پر حکومت نئی عمارت تعمیر کرے گی۔ نئی دکانیں اصل تعداد سے ایک انچ بھی زیادہ نہیں ہوں گی اور دکانداروں کے ساتھ مل کر تعمیر کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:  گل پلازہ سانحہ: شرجیل میمن نے وفاقی وزیر کے بیان کو 'غیر سنجیدہ' قرار دے دیا

کراچی کے انفراسٹرکچر میں بہتری کے منصوبے

وزیراعلیٰ نے کراچی کے ٹریفک اور انفراسٹرکچر مسائل پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ:

  • شاہراہ بھٹو کو ایم 9 تک ملانے کا منصوبہ عید کے بعد شروع کیا جائے گا۔
  • اس منصوبے میں چند ماہ کی تاخیر ہوئی ہے۔
  • یہ راستہ روزانہ 50 ہزار افراد استعمال کرتے ہیں، جس سے ٹریفک مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔

یہ اقدامات کراچی کی مجموعی ترقی اور شہریوں کی سہولیات کے لیے اہم ہیں۔

ذمہ داروں کو سزا اور مستقبل کی روک تھام

مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ 80 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں۔ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کی کوتاہیوں کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ:

  • اس واقعے کے بعد دیگر صوبوں میں بھی عمارتوں کی حفاظت کے لیے کمیٹیاں قائم ہو گئی ہیں۔
  • سندھ میں ہر بلڈنگ کا مکمل آڈٹ کیا جائے گا۔
  • سروے کے بعد ایک ہفتے میں مالکان کو بتایا جائے گا کہ حفاظتی اقدامات کیا کرنے ہیں۔
  • جو بلڈنگز اقدامات نہیں کریں گی، انہیں سیل کر دیا جائے گا اور کسی قسم کا کمپرومائز نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:  ایم کیو ایم نے کبھی نہیں کہا کہ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کیا جائے: خالد مقبول صدیقی

یہ اقدامات مستقبل میں اس طرح کے سانحات کی روک تھام کے لیے کلیدی ہیں۔

FAQs

1. سانحہ گل پلازہ کب پیش آیا؟

یہ سانحہ 17 جنوری 2026 کی رات کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں آگ لگنے سے پیش آیا۔

2. ہلاکتوں کی تعداد کتنی ہے؟

جاں بحق افراد کی تعداد 70 سے زائد ہو چکی ہے (تازہ ترین رپورٹس کے مطابق)۔

3. متاثرین کو کیا امداد مل رہی ہے؟

جاں بحق کے ورثاء کو 1 کروڑ روپے معاوضہ، ہر دکاندار کو 5 لاکھ روپے فوری امداد، اور 2 ماہ میں نئی دکانیں دی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  سانحہ گل پلازہ: آخری لاپتا شخص کے ملنے تک عمارت نہیں گراسکتے، ڈی سی ساؤتھ

4. دکانیں کب تک تیار ہوں گی؟

وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق 2 ماہ کے اندر نئی دکانیں تیار کرکے دکانداروں کو دی جائیں گی۔

5. مستقبل میں روک تھام کے لیے کیا ہو رہا ہے؟

تمام بلڈنگز کا آڈٹ، حفاظتی اقدامات نہ کرنے والی عمارتوں کو سیل کرنے، اور سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور متاثرہ خاندانوں کو صبر عطا کرے۔

اگر آپ کو یہ معلومات مفید لگیں تو نیچے کمنٹ میں اپنی رائے کا اظہار کریں، آرٹیکل شیئر کریں اور مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب تیرتے واٹس ایپ بٹن پر کلک کرکے ابھی جوائن کریں تاکہ اہم خبروں کی فوری اطلاع مل سکے – یہ آپ کے لیے بہترین ذریعہ ہے!

ڈس کلیمر: یہ معلومات عوامی رپورٹس اور سرکاری بیانات پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ حکام سے تصدیق کر لیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *