مرتضی وہاب

مرتضی وہاب: سانحے کی آڑ میں سیاست اور صوبے کو دو لخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

https://otieu.com/4/10402694

کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضی وہاب نے ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ سانحے جیسی المناک گھٹنا کی آڑ میں سیاست کرنے اور صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بیان کراچی کی سیاسی اور ترقیاتی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے، جہاں ایک طرف شہر کے عوام بنیادی مسائل سے دوچار ہیں تو دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں۔

میئر مرتضی وہاب نے جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں وفاق خود سڑکیں اور دیگر انفراسٹرکچر منصوبے براہ راست مکمل کرتا ہے، مگر کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے شہر میں ترقیاتی کاموں کے لیے خاطر خواہ تعاون نہیں مل رہا۔ انہوں نے خاص طور پر گرین لائن BRT منصوبے کا ذکر کیا جو وفاقی سطح پر ہے اور اس کی تکمیل میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔

اس کے مقابلے میں یلو لائن اور ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے سندھ حکومت کے زیر انتظام ہیں اور ان پر کام جاری ہے، اگرچہ وسائل کی کمی، انتظامی مسائل اور دیگر چیلنجز کی وجہ سے مکمل رفتار نہیں مل پا رہی۔ یہ بیان کراچی کے شہریوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ شہر شدید ٹریفک، ٹرانسپورٹ کی کمی، آلودگی اور بنیادی سہولیات کے مسائل سے گھرا ہوا ہے۔

گل پلازہ سانحہ

گل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا واقعہ کراچی کے لیے ایک بڑا سانحہ ثابت ہوا۔ اس عمارت میں آگ لگنے سے متعدد افراد جاں بحق ہوئے، کئی زخمی ہوئے اور بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے۔ یہ واقعہ نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا بلکہ شہر میں فائر سیفٹی سسٹم، بلڈنگ کنٹرول قوانین کی پاسداری، ایمرجنسی رسپانس اور بنیادی انفراسٹرکچر کی سنگین خامیوں کو بھی ایک بار پھر اجاگر کر گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  قومی ایئرلائن کی فروخت، حقائق اور اثرات

اس سانحے کے فوراً بعد سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی۔ ایم کیو ایم پاکستان نے اسے صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کراچی کو وفاق کے زیر انتظام لانے کا مطالبہ شدت سے دہرایا۔ دوسری جانب سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے نمائندوں کا موقف ہے کہ یہ ایک افسوسناک حادثہ ہے مگر اسے سیاسی فائدہ اٹھانے یا صوبائی خودمختاری پر حملہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

مرتضی وہاب کے کلیدی بیانات اور تنقید

میئر مرتضی وہاب نے اپنے بیان میں کئی اہم نکات پر زور دیا:

  • سانحے کی آڑ میں سیاست کرنا اور صوبے کو دو لخت کرنے کی کوشش مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔
  • وفاق پنجاب صوبے میں براہ راست ترقیاتی منصوبے مکمل کرتا ہے، جبکہ کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
  • گرین لائن BRT وفاق کا منصوبہ ہے اور اس کی تاخیر کا ذمہ دار وفاق کو ٹھہرایا جانا چاہیے۔
  • سندھ حکومت یلو لائن اور ریڈ لائن کو مکمل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے، مگر محدود مالی وسائل اور دیگر انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی تاکید کی کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر وفاق اور صوبہ کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ شہر کے عوام کو ریلیف مل سکے۔

ایم کیو ایم پاکستان کا جواب اور مطالبہ

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا بھی ایک عملی اور ممکنہ حل ہو سکتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ سانحے کی آڑ میں کوئی سیاست نہیں کی جا رہی بلکہ شہر کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا: مولانا فضل الرحمان

ایم کیو ایم مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دیا جائے تاکہ انتظامی، مالی اور ترقیاتی امور میں بہتری آ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی سطح پر دستیاب وسائل اور انتظامی صلاحیت شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔

کراچی کے BRT منصوبوں کی تازہ ترین صورتحال

کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل کو حل کرنے کے لیے شروع کیے گئے بی آر ٹی منصوبے شہر کی ترقی کا مرکزی ستون ہیں۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق یہ منصوبے پیش رفت کر رہے ہیں:

  • گرین لائن BRT: وفاقی سطح پر توسیعی مرحلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ سیاسی اتفاق رائے کے بعد کام تیز ہوا ہے اور اکتوبر 2026 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ نئے اسٹیشنز اور کوریڈور کی تعمیر جاری ہے۔
  • ریڈ لائن BRT: تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ یونیورسٹی روڈ سمیت اہم سیکشنز پر کام ہو رہا ہے۔ نکاسی آب اور دیگر بنیادی کام مکمل ہو چکے ہیں اور جون 2026 تک مکمل ہونے کا ہدف ہے۔
  • یلو لائن BRT: منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے مگر کام جاری ہے۔ یہ لائن شہر کے اہم علاقوں کو جوڑے گی اور 2026 میں سروس شروع ہونے کی توقع ہے۔

یہ منصوبے مکمل ہونے سے کراچی کے ٹریفک جام، آلودگی اور وقت کے ضیاع میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جو شہری زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔

کراچی کے چیلنجز اور ممکنہ حل

کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے مگر اسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ٹریفک، پانی کی قلت، فائر سیفٹی، گٹر اور انفراسٹرکچر کی خرابی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ گل پلازہ سانحہ ان مسائل کی ایک واضح مثال ہے۔

ممکنہ حل یہ ہیں:

  • وفاق اور صوبہ کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن اور وسائل کی منصفانہ تقسیم۔
  • 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے وفاقی تعاون کو بڑھایا جائے۔
  • فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، جدید آلات کی فراہمی اور بلڈنگ کنٹرول کو مضبوط بنایا جائے۔
  • ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، نگرانی اور تیز رفتاری کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:  اب تک پیاروں کی اطلاع نہیں! گل پلازہ متاثرین کا ریسکیو تیز کرنے کا مطالبہ

مختصر FAQs

سوال 1: گل پلازہ سانحہ کیا تھا؟

یہ ایک سنگین آتشزدگی کا واقعہ تھا جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے اور شہر میں فائر سیفٹی کی کمی سامنے آئی۔

سوال 2: مرتضی وہاب نے ایم کیو ایم کے مطالبے پر کیا ردعمل دیا؟

انہوں نے کہا کہ سانحے کی آڑ میں سیاست اور صوبے کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سوال 3: گرین لائن BRT کی تازہ صورتحال کیا ہے؟

وفاقی منصوبہ ہے، توسیع کا کام جاری ہے اور اکتوبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

سوال 4: کیا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا مسائل حل کر سکتا ہے؟

یہ سیاسی بحث ہے؛ کچھ لوگ اسے ضروری سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے صوبائی خودمختاری اور مزید وسائل کو ترجیح دیتے ہیں۔

سوال 5: ریڈ لائن اور یلو لائن BRT کب مکمل ہوں گے؟

دونوں منصوبوں پر کام جاری ہے اور 2026 میں سروس شروع ہونے کی امید ہے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا کراچی کے مسائل وفاقی کنٹرول سے حل ہو سکتے ہیں یا صوبائی سطح پر مزید وسائل اور بہتر تعاون کی ضرورت ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور بحث میں حصہ لیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں! بائیں جانب تیرتے واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور کراچی کی سیاسی، ترقیاتی اور دیگر اہم اپ ڈیٹس فوری حاصل کریں۔ ابھی جوائن کریں!

یہ معلومات عوامی رپورٹس اور میڈیا بیانات پر مبنی ہیں۔ براہ مہربانی کسی بھی عمل سے پہلے متعلقہ معلومات کی تصدیق کر لیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *