وزیر اعلیٰ سندھ کا گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر، ہر دکان دار کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں گل پلازہ سانحہ پر تفصیلی پالیسی بیان دیتے ہوئے متاثرہ تاجروں کی بحالی اور عمارت کی دوبارہ تعمیر کا جامع اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں 5 لاکھ روپے معاوضہ دینے، دو سال تک متبادل دکانیں فراہم کرنے اور ایک کروڑ روپے تک بلاسود قرضہ دینے کا اعلان کیا۔
سانحہ گل پلازہ کی تازہ تفصیلات
گل پلازہ میں آگ 10 بج کر 14 منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان سے شروع ہوئی۔ فائر بریگیڈ کو 10 بج کر 26 منٹ پر اطلاع ملی جبکہ ریسکیو 1122 کو 10 بج کر 36 منٹ پر کال گئی۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کل 88 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے تھے جن میں سے 82 کی تعداد درست تھی۔ اب تک 67 باڈیز برآمد ہو چکی ہیں، 15 افراد لاپتا ہیں، 15 کا ڈی این اے مکمل ہو چکا ہے اور 52 کا پراسیس جاری ہے۔ شناخت ہونے والی باڈیز لواحقین کے حوالے کی جا رہی ہیں۔
متاثرہ تاجروں کے لیے اعلان کردہ امدادی پیکج
وزیر اعلیٰ نے متاثرین کی بحالی کے لیے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا:
- 1102 رجسٹرڈ دکانیں (ایس بی سی اے منظور شدہ)
- ہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں 5 لاکھ روپے معاوضہ (کراچی چیمبر کے ذریعے تقسیم)
- دو سال تک کاروبار جاری رکھنے کے لیے متبادل دکانیں فراہم کی جائیں گی
- ایک کروڑ روپے تک بلاسود قرضہ (سود کی ادائیگی سندھ حکومت کرے گی)
- متاثرین کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی
گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا پلان
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گل پلازہ کو گرانا پڑے گا اور دو سال میں نئی عمارت تعمیر کر کے تاجروں کے حوالے کی جائے گی۔ اس دوران تاجروں کے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے عارضی دکانیں دو ماہ میں دستیاب کرائی جائیں گی۔ عمارت کو اس کی اصل شکل میں واپس لایا جائے گا تاکہ علاقے کی معاشی سرگرمیاں جلد بحال ہو سکیں۔
سیاسی تناظر اور اسمبلی میں بحث
بیان کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے اٹھ کر اعتراض کیا کہ ڈی سی ساؤتھ واقعے کی جگہ نہیں پہنچا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے جواب میں کہا کہ “چور کی ڈاڑھی میں تنکا” اور تاریخی منظوریوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کی لیز 1991 میں کی ایم سی نے منظور کی تھی (میئر نعمت اللہ خان اور فاروق ستار کے دور میں)۔ 1979 میں بیسمنٹ اور دو فلور کی منظوری دی گئی تھی۔ 2001 میں ریگولرائزیشن آرڈیننس آیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ 18ویں ترمیم سے پہلے کے مسائل اب صاف کیے جا رہے ہیں۔ تقریر کے اختتام پر ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے اراکین کھڑے ہو گئے جس پر اسپیکر نے انہیں روکا اور رولز کی یاد دہانی کرائی۔
انکوائری اور ذمہ داریوں کا تعین
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سانحہ پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ واقعے کے اگلے دن ہی اجلاس بلایا اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جو بھی ذمہ دار ہو گا اسے سزا ملے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انشورنس کا نظام بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات میں متاثرین کو فوری امداد مل سکے۔
عوامی فوائد اور توقعات
یہ اعلان کراچی کے تاجروں، خاندانوں اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بڑی راحت کا باعث ہے۔ فوری معاوضہ کاروبار دوبارہ شروع کرنے میں مدد دے گا جبکہ متبادل دکانیں اور بلاسود قرضہ طویل مدتی بحالی کو یقینی بنائیں گے۔ دوبارہ تعمیر سے ایم اے جناح روڈ کا علاقہ جلد بحال ہو سکتا ہے۔
گل پلازہ سانحہ FAQs
1. ہر دکان دار کو کتنا فوری معاوضہ ملے گا؟
پہلے مرحلے میں 5 لاکھ روپے، کراچی چیمبر کے ذریعے تقسیم کیے جائیں گے۔
2. گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر میں کتنا وقت لگے گا؟
دو سال میں مکمل تعمیر اور تاجروں کے حوالے کرنے کا پلان ہے۔
3. قرضہ کیسے اور کتنا ملے گا؟
ایک کروڑ روپے تک بلاسود قرضہ، سود کی ادائیگی سندھ حکومت کرے گی۔
4. لاپتا افراد کی موجودہ تعداد کیا ہے؟
15 افراد اب بھی لاپتا ہیں، 67 باڈیز برآمد ہو چکی ہیں۔
5. عمارت کی منظوریاں کب اور کس نے دی تھیں؟
1979 اور 1991 میں کی ایم سی نے منظوریاں دی تھیں۔
اگر آپ گل پلازہ سانحہ، تاجروں کی بحالی، دوبارہ تعمیر کے پلان یا متعلقہ اعلانات پر مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں تو کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ کیا یہ امدادی پیکج متاثرین کے لیے کافی ہے؟
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں تاکہ کراچی کی تازہ ترین خبروں، سانحہ گل پلازہ کی اپ ڈیٹس، معاوضہ، قرضہ اور ترقیاتی منصوبوں کی رپورٹس براہ راست آپ کے فون پر پہنچیں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں – ہر اہم خبر آپ تک فوری طور پر!
نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس اور میڈیا بیانات پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ حکام سے تصدیق کر لیں۔