بشریٰ بی بی and مریم ریاض وٹو

بشریٰ بی بی کی خیریت کا کوئی پتہ نہیں، 3 ماہ گزر گئے: مریم ریاض وٹو کا جذباتی بیان

https://otieu.com/4/10402694

بشریٰ بی بی، سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ، اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی بہن مریم ریاض وٹو نے ایک جذباتی پیغام جاری کیا ہے جس میں خاندان کی شدید اذیت اور پریشانی کا اظہار کیا گیا ہے۔ مریم ریاض وٹو کے مطابق تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں مگر خاندان کو بشریٰ بی بی کی خیریت یا حال احوال کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

والدہ کی حالت

مریم ریاض وٹو نے بتایا کہ جب بھی گھر کی گھنٹی بجتی ہے تو ان کی والدہ یہ سمجھتی ہیں کہ شاید بشریٰ آ گئی ہوں گی۔ مگر پھر انہیں یاد آتا ہے کہ وہ جیل میں ہیں۔ والدہ خود کو تسلی دیتی ہیں کہ بشریٰ کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ اگر اس دنیا میں ملاقات نہ ہو سکی تو آخرت میں ضرور ملاقات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیر اعلیٰ سندھ کا گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر، ہر دکان دار کو پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان

یہ بیان ایک ماں کی جذباتی حالت کو واضح کرتا ہے جو روزانہ کی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے اپنی بیٹی کی یاد میں ڈوب جاتی ہے۔

ملاقات اور رابطے کی پابندی

مریم ریاض وٹو نے واضح کیا کہ بشریٰ بی بی کو اپنی والدہ کی بیماری کا علم ہے مگر انہیں اہل خانہ سے بات کرنے یا ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ تقریباً تین ماہ سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اسے نہ صرف ناانصافی بلکہ ظلم قرار دیا اور کہا کہ اس ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔

خاندان کا مقصد اور پیغام

مریم ریاض وٹو نے زور دیا کہ یہ پیغام ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو خاندان کی حقیقی اذیت سے آگاہ کرنے کے لیے ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ عوام جان سکیں کہ ایک خاندان کس تکلیف سے گزر رہا ہے جبکہ بنیادی معلومات تک نہیں دی جا رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  18 ویں ترمیم میں بہتری کیلئے آئین میں راستہ کھلا ہے، اس کو لیکر ہمارے مؤقف پر بات ہونی چاہیے: رانا ثنااللہ

انسانی حقوق کا پہلو

پاکستان کے جیل قوانین اور آئین کے تحت قیدیوں کو خاندان سے ملاقات اور رابطے کا حق ہے۔ طویل عرصے تک ملاقات روکنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ یہ معاملہ جیلوں میں قیدیوں کے خاندانی رابطوں کے عمومی مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

عوامی اور سیاسی ردعمل

یہ بیان سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر ہو رہا ہے۔ لوگ اسے انسانی ہمدردی کا معاملہ قرار دے رہے ہیں جبکہ سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ یہ پیغام خاندان کی تنہائی اور دکھ کو واضح کرتا ہے۔

FAQs

سوال 1: مریم ریاض وٹو نے کتنا عرصہ بتایا؟

جواب: تقریباً 3 ماہ۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی جیسے شہر میں آگ پر قابو نہ پاسکنا ایک افسوسناک سوالیہ نشان ہے: مفتی تقی عثمانی

سوال 2: والدہ کیسے تسلی پاتی ہیں؟

جواب: اللہ کے سپرد، آخرت میں ملاقات ہوگی۔

سوال 3: بشریٰ بی بی کو والدہ کی بیماری کا علم ہے؟

جواب: ہاں، مگر رابطہ کی اجازت نہیں۔

سوال 4: پیغام کا مقصد کیا ہے؟

جواب: خاندان کی اذیت لوگوں تک پہنچانا۔

سوال 5: انہوں نے اسے کیا کہا؟

جواب: ظلم ہے اور اس کے خلاف آواز نہیں اٹھ رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں۔ WhatsApp چینل جوائن کریں تاکہ تازہ ترین خبروں سے براہ راست آگاہ رہیں – بائیں جانب فلوٹنگ بٹن پر کلک کرکے نوٹیفکیشن آن کریں!

ڈس کلیمر: The provided information is based on public reports. Please verify all discussed details from official sources before drawing conclusions or taking any actions.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *