گل پلازہ کی بجلی بند نہ کی جاتی تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے: تنویر پاستا
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کو گہرے صدمے میں ڈال دیا ہے۔ یہ سانحہ اب تک کے سب سے بڑے تجارتی عمارتوں سے متعلق آتشزدگی کے واقعات میں شمار ہو رہا ہے۔ اس آگ میں جانی نقصان کی تعداد انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس نے شہری سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی اور کئی اہم نکات واضح کیے۔ ان کے بیان نے کچھ پہلوؤں کو روشنی میں لایا ہے جو پہلے مبہم تھے۔
آگ لگنے کے وقت راستوں کی صورتحال
تنویر پاستا نے واضح طور پر کہا کہ آگ لگنے کے وقت گل پلازہ کے راستے بند نہیں تھے۔ ان کے مطابق:
- مرکزی راستے کھلے تھے
- ایمرجنسی ریمپ مکمل طور پر فعال اور کھلا تھا
- مسجد سے باہر نکلنے کے دو الگ الگ راستے بھی دستیاب تھے
انہوں نے زور دیا کہ ان راستوں کی وجہ سے سیکڑوں افراد آگ کے شعلوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اگر راستے بند ہوتے تو صورتحال اور بھی سنگین ہو سکتی تھی۔
بجلی بند کرنے کا فیصلہ
سب سے اہم نکتہ جو تنویر پاستا نے بیان کیا وہ بجلی بند کرنے سے متعلق تھا۔ ان کا کہنا تھا:
“گل پلازہ کی بجلی احتیاطاً بند کی گئی تھی۔ اگر بجلی بند نہ کی جاتی تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔”
اس بیان کے مطابق بجلی بند کرنے کا مقصد شارٹ سرکٹ سے پیدا ہونے والے مزید خطرات کو روکنا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بجلی بند نہ ہونے کی صورت میں لفٹس، ایئر کنڈیشننگ سسٹم اور دیگر الیکٹریکل آلات سے آگ مزید پھیل سکتی تھی اور لوگوں کے لیے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا۔
یہ وضاحت اہم ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بجلی بند کرنے سے روشنی ختم ہو جانے کی وجہ سے لوگ اندھیرے میں پھنس گئے۔ تنویر پاستا کے مطابق یہ فیصلہ جان بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔
سانحے کی تازہ ترین تفصیلات
حکام کی جانب سے جاری تازہ ترین معلومات کے مطابق:
- اب تک 61 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے
- 86 افراد تاحال لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے
- امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں
- لاشوں کے سیمپلز کا کیمیکل ایگزامینیشن شروع کر دیا گیا ہے
تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ خاص طور پر آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات جاننے کے لیے کیمیکل ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت میں موجود پلاسٹک، کپڑے، پرفیوم، کیمیکلز اور دیگر قابل اشتعال مواد نے آگ کو چند منٹوں میں پورے پلازہ میں پھیلا دیا۔
تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے سنگین مسائل
یہ سانحہ کراچی کے تقریباً تمام بڑے مارکیٹس اور تجارتی مراکز کے لیے ایک وارننگ ہے۔ شہر میں ہزاروں ایسی عمارتیں ہیں جہاں:
- فائر الارم سسٹم یا تو موجود نہیں یا کام نہیں کر رہے
- ایمرجنسی ایگزٹس بلاک یا تالا بند ہوتے ہیں
- فائر فائٹنگ آلات کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے
- اضافی منزلیں غیر قانونی طور پر بنائی جاتی ہیں
- بلڈنگ کوڈز کی مکمل پابندی نہیں کی جاتی
گل پلازہ جیسے سانحات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ایسے واقعات دوبارہ رونما ہو سکتے ہیں۔
عوام کے لیے احتیاطی تدابیر
عام شہریوں کے لیے کچھ فوری احتیاطی تدابیر یہ ہیں:
- کسی بھی تجارتی عمارت میں داخل ہونے سے پہلے ایمرجنسی ایگزٹ کے نشانات دیکھیں
- لفٹ استعمال کرنے کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرنے کی عادت ڈالیں
- آگ لگنے کی صورت میں پرسکون رہیں اور دھوئیں سے بچنے کے لیے نیچے جھک کر چلیں
- اگر دھواں زیادہ ہو تو گیلا کپڑا منہ پر رکھیں
- عمارت کے مالک یا انتظامیہ سے فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کے بارے میں پوچھیں
حکومتی اور انتظامی ذمہ داریاں
یہ سانحہ صرف تاجروں یا عمارت کے مالکان کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ سندھ حکومت، کراچی بلدیہ، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سب کو مل کر جواب دہ ہونا پڑے گا کہ:
- غیر قانونی توسیعات کیوں روکی نہیں گئیں؟
- فائر سیفٹی معائنہ کب آخری بار ہوا تھا؟
- قابل اشتعال مواد کی ذخیرہ اندوزی پر کوئی پابندی کیوں نہیں؟
- ایمرجنسی رسپانس ٹائم اتنا طویل کیوں تھا؟
ان سوالات کے جوابات عوام کو دینا ضروری ہیں تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔
FAQs
سوال 1: تنویر پاستا نے بجلی بند کرنے کی کیا وجہ بتائی؟
جواب: احتیاطاً بند کی گئی تاکہ شارٹ سرکٹ سے مزید نقصان نہ ہو اور لوگ باہر نکل سکیں۔
سوال 2: آگ لگنے کے وقت راستے بند تھے؟
جواب: نہیں، مرکزی راستے، ایمرجنسی ریمپ اور مسجد کے دو راستے کھلے تھے۔
سوال 3: سانحے میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
جواب: اب تک 61 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سوال 4: کتنے افراد لاپتا ہیں؟
جواب: 86 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
سوال 5: تحقیقات میں کیا کیا جا رہا ہے؟
جواب: لاشوں کا کیمیکل ٹیسٹ اور آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات جانچی جا رہی ہیں۔
اس خبر پر اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں۔ WhatsApp چینل جوائن کریں تاکہ کراچی کی تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس براہ راست ملیں – بائیں جانب فلوٹنگ بٹن پر کلک کرکے نوٹیفکیشن آن کریں!
نتیجہ
گل پلازہ کا سانحہ ایک المیہ ہے جو ہمیں بیدار کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ اگر ہم اب بھی لاپرواہی جاری رکھیں گے تو مستقبل میں بھی ایسی ہی خبریں سننے کو ملیں گی۔
حکومت، تاجر برادری اور شہریوں کو مل کر ایک جامع پلان بنانا ہوگا جس میں:
- تمام تجارتی عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ
- غیر قانونی توسیعات کا خاتمہ
- جدید فائر فائٹنگ سسٹم کی تنصیب
- عوامی آگاہی مہم
- سخت سزاؤں کا نفاذ
شامل ہوں۔
یہ سانحہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ 61 خاندانوں کی زندگیاں اور 86 خاندانوں کی امیدوں کا سوال ہے۔ ان سب کے لیے انصاف اور احتساب ناگزیر ہے۔
ڈس کلیمر: The provided information is based on public reports. Please verify all discussed details from official sources before drawing conclusions or taking any actions.