ایم کیو ایم نے کبھی نہیں کہا کہ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کیا جائے: خالد مقبول صدیقی
وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کی پوزیشن واضح کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کبھی بھی 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ایسا مطالبہ پیش کیا ہے جو پاکستان کے آئین سے ٹکراتا ہو۔ یہ بیان سندھ کی سیاسی صورتحال، کراچی کے مسائل اور گل پلازہ سانحے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ سندھ میں 17 سال سے ایک ہی سیاسی جماعت مکمل اختیارات کے ساتھ حکومت کر رہی ہے۔ انہوں نے سندھ کے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 97 فیصد وسائل کراچی سے آتے ہیں مگر شہر کو مناسب ترقیاتی فنڈز اور توجہ نہیں مل رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ “چور اور سپاہی دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں”۔ گل پلازہ سانحے پر انہوں نے تبصرہ کیا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ آگ حادثاتی طور پر لگی یا دانستہ طور پر لگائی گئی۔
خالد مقبول کے اہم بیانات
- ایم کیو ایم نے کبھی 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے یا رول بیک کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔
- ہمارا کوئی مطالبہ آئین پاکستان سے متصادم نہیں ہے۔
- سندھ میں 17 سال سے ایک ہی پارٹی 100 فیصد اختیارات استعمال کر رہی ہے۔
- سندھ کا بجٹ کا 97 فیصد کراچی سے آتا ہے مگر شہر کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔
- گل پلازہ کی آگ کے بارے میں ابھی واضح نہیں کہ یہ حادثہ تھا یا آگ زنی۔
یہ بیانات کراچی کی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں، جہاں ایک طرف صوبائی حکومت پر تنقید ہے تو دوسری طرف وفاقی سطح پر تعاون اور وسائل کی تقسیم کی بات ہو رہی ہے۔
سندھ کا بجٹ اور کراچی کی معاشی شراکت
سندھ کا حالیہ بجٹ تقریباً 3.45 ٹریلین روپے کا ہے جس میں ترقیاتی اخراجات کے لیے ایک ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ کراچی کی معیشت سے آتا ہے جو پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد حصہ پیدا کرتی ہے۔ کراچی کی بندرگاہیں، صنعت، ٹیکس اور دیگر شعبے صوبے کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔
مگر ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ کراچی کو واپس ملنے والے وسائل اس کی شراکت کے متناسب نہیں ہیں۔ اس سے شہر میں ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں شدید کمی ہے۔
گل پلازہ سانحہ: تازہ صورتحال
گل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا واقعہ ایک سنگین سانحہ تھا جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مختلف رپورٹس میں یہ اشارہ مل رہا ہے کہ یہ حادثاتی ہو سکتا ہے یا دانستہ آگ زنی کا معاملہ ہو۔ ماضی کے کچھ سانحات جیسے بالدیہ ٹاؤن فیکٹری آگ میں عدالت نے آگ زنی ثابت کی تھی۔
سندھ حکومت نے سانحے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اسے فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی سے جوڑا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم اسے صوبائی حکومت کی ناکامی کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔
18 ویں ترمیم
18 ویں ترمیم 2010 میں پاکستان کے آئین میں شامل کی گئی جس نے صوبوں کو تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر شعبوں میں زیادہ اختیارات دیے۔ اس ترمیم کے ذریعے NFC ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم بھی تبدیل ہوئی جس سے سندھ کو وفاق سے بڑا حصہ ملنے لگا۔
خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم اس ترمیم کو ختم کرنے کی بجائے صوبائی سطح پر بہتر گورننس اور کراچی کے لیے خصوصی توجہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب دیگر جماعتیں اسے صوبائی خودمختاری کا بنیادی ستون قرار دیتی ہیں۔
کراچی کے مسائل اور ممکنہ حل
کراچی کو درپیش چیلنجز میں ٹریفک جام، پانی کی قلت، فائر سیفٹی، گٹر اور بنیادی انفراسٹرکچر کی خرابی شامل ہیں۔ گل پلازہ سانحہ نے فائر سیفٹی سسٹم کی کمزوری کو ایک بار پھر سامنے لایا۔ ممکنہ حل یہ ہیں:
- وفاق اور صوبہ کے درمیان بہتر تعاون اور کوآرڈینیشن۔
- کراچی کو خصوصی مالی اور انتظامی پیکیج دیا جائے۔
- فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل اور جدید آلات کی فراہمی۔
- بجٹ کی تقسیم میں شفافیت اور کراچی کی شراکت کے متناسب فنڈز کی فراہمی۔
یہ اقدامات 18 ویں ترمیم کے فریم ورک میں رہتے ہوئے بھی ممکن ہیں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ 18 ویں ترمیم میں کوئی تبدیلی کی ضرورت ہے؟
- الف) ہاں، کراچی جیسے شہروں کے لیے خصوصی حیثیت ضروری ہے۔
- ب) نہیں، یہ صوبائی خودمختاری کو مضبوط کرتی ہے۔
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!
مختصر FAQs
سوال 1: خالد مقبول صدیقی نے 18 ویں ترمیم پر کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کبھی رول بیک کا مطالبہ نہیں کیا اور مطالبات آئین کے مطابق ہیں۔
سوال 2: سندھ کے بجٹ میں کراچی کی شراکت کتنی ہے؟
تقریباً 97 فیصد، جو شہر کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال 3: گل پلازہ سانحے کی نوعیت کیا ہے؟
تحقیقات جاری ہیں، حادثاتی ہے یا آگ زنی، ابھی حتمی نہیں۔
سوال 4: 18 ویں ترمیم کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
صوبوں کو زیادہ اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم دینا۔
سوال 5: ایم کیو ایم کا بنیادی مطالبہ کیا ہے؟
کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے بہتر گورننس اور مناسب وسائل کی تقسیم۔
تازہ ترین سیاسی اور معاشی خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں! بائیں جانب تیرتے واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور پاکستان کی اہم اپ ڈیٹس فوری حاصل کریں۔ ابھی جوائن کریں!
یہ معلومات عوامی رپورٹس اور میڈیا بیانات پر مبنی ہیں۔ براہ مہربانی کسی بھی عمل سے پہلے متعلقہ معلومات کی تصدیق کر لیں۔