اب تک پیاروں کی اطلاع نہیں! گل پلازہ متاثرین کا ریسکیو تیز کرنے کا مطالبہ
گل پلازہ کراچی میں گزشتہ شب لگنے والی تباہ کن آگ کے بعد متاثرہ شہریوں کے اہل خانہ نے ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے، اور ریسکیو اہلکاروں کے اندر تعاون نہ کرنے پر شدید شکایات بھی کی ہیں۔ سانحہ کے بعد اب تک متعدد افراد لاش یا زندہ معلوم نہیں ہو سکے ہیں، جس کی وجہ سے اہل خانہ شدید پریشانی میں ہیں۔
متاثرین اور اہل خانہ کا غم و غصہ
- لاپتہ انس کے بھائی اسامہ کے مطابق انس کی تیسرے فلور پر کھلونوں کی دکان تھی۔ آگ لگنے کے بعد انس نے فون پر بتایا کہ دم گھٹ رہا ہے مگر اس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔ انس کی چار سال پہلے شادی ہوئی تھی اور وہ دو بچوں کے باپ تھے۔
- انس کے والد عمران نے بتایا کہ انس کی والدہ اور بیوی پہلا دن سے اس کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انس کے بارے میں کم از کم یہ بتا دیا جائے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔
- اہل خانہ کا الزام ہے کہ ریسکیو اہلکار صرف بیرونی حصے پر پانی پھینک رہے ہیں اور اندر جانے کی پوری کوشش نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریسکیو ٹیمز عمارت کے اندر جائیں اور پھنسے ہوئے لوگوں کو بچائیں۔
اہل خانہ کی اندر جانے کی کوشش اور پولیس کا ردعمل
متاثرین نے دعویٰ کیا کہ پلازہ میں پھنسے شہریوں کے اہل خانہ نے خود اندر جانے کی کوشش بھی کی، جس پر انہیں ڈنڈے مارے گئے۔ ان کے بقول پولیس اور ریسکیو ٹیمز نے ان کی مدد نہیں کی جس سے رنج و غم مزید بڑھ گیا۔
ریسکیو آپریشن کی صورتحال
- ریسکیو ٹیمز پہلے فرشوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کر رہی ہیں، بڑی تعداد میں ملبہ اور گرنے کے خطرات کے باعث آپریشن سست رفتار سے جاری ہے۔
- حکام کے مطابق 36 گھنٹے سے زائد کی شدید آگ کے بعد متعدد افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے اور کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
متاثرین کا مطالبہ کیا ہے؟
اہل خانہ اور متاثرین دو اہم مطالبات کر رہے ہیں:
- ریسکیو آپریشن میں تیز رفتاری لائی جائے تاکہ لاپتہ افراد کو جلد بازیابی مل سکے۔
- ریسکیو اہلکار اندر تک جائیں اور صرف باہر سے پانی مارنے پر اکتفا نہ کیا جائے۔
سانحہ گل پلازہ: حالات اور چیلنجز
گل پلازہ ایک پرانا تجارتی مرکز ہے، جس میں تقریباً 1,200 دکانیں تھیں۔ آگ لگنے کے بعد بہت سی جگہیں منہدم ہو چکی ہیں، جس سے نہ صرف تلاش کے عمل میں دشواری پیدا ہوئی ہے بلکہ ریسکیو ٹیمز کے لئے اندر جانے کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔
ریسکیو ٹیمز کے بیانات
حکام کا کہنا ہے کہ اندر جانے کے لئے حفاظتی تحفظات اور مضبوط اوزار درکار ہیں کیونکہ عمارت کا ڈھانچہ کافی خطرناک حالت میں ہے اور اضافی نقصان کا خطرہ ہے۔ لیکن متاثرین کا موقف ہے کہ رہ جانے والوں کو بچانے کے لئے فوری قدم ضروری ہے۔
نتیجہ
یہ سانحہ نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ اس میں ریسکیو آپریشن کی کارکردگی اور عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے اقدامات کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ریسکیو کے عمل کو نہ صرف تیز کیا جائے بلکہ شفاف اور نتیجہ خیز منصوبہ بندی بھی عمل میں لائی جائے۔
FAQs:
Q: گل پلازہ آگ میں کتنے افراد لاپتہ ہیں؟
A: مختلف اعداد و شمار کے مطابق کئی افراد لاپتہ ہیں، جبکہ متعدد افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
Q: ریسکیو آپریشن کیوں سست ہے؟
A: عمارت کے خطرناک حالت، گرنے کے خدشات، اور مناسب اوزار نہ ہونے کی وجہ سے ٹیمز اندر جانے میں احتیاط کر رہی ہیں۔
آپ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں دیں، اس خبر کو شیئر کریں، اور ہماری WhatsApp چینل کو فالو کریں تاکہ تازہ ترین اپ ڈیٹس فوری آپ تک پہنچ سکیں۔
Disclaimer – All information is based on public reports; verify before taking any actions